Mafhome Hadees: Qiyamat k din Banday se Pehlay iski Namaz ka hisab hoga,JsKi Namaz sahi hoi to wo kamyab hoga,Agar Namaz kharab hoi to wo nakam o Na-Murad hoga,Agar banday k faraiz mai kuch kami hoi to ALLAH farmaye ga,Mere banday k Nama e Aamal me dekho koi nafal ibadat hay? Agar hoi to Nawafil k sath faraiz ki kami pori ki jayeGi .
.
.
(Tirmazi, Kitab us Salat,H#413)
صحیح البخاری
کتاب: ایمان کا بیان
باب: کون سا اسلام افضل ہے؟
حدیث نمبر: 11
ترجمہ:
سعید بن یحییٰ بن سعید قرشی، یحییٰ بن سعید، ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ، ابوبردہ، ابوموسی کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔
صحیح البخاری
حدیث نمبر: 6412
ترجمہ:
مکی بن ابراہیم، عبداللہ بن سعید، ابن ابی ہند، سعید بن ابھی ہند، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : کہ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے (ایک) تندرستی (دوسرے) خوش حالی، عباس عنبری نے بواسطہ صفوان بن عیسیٰ ، عبداللہ بن سعید بن ابی ہند، سعید بن ابی ہند، ابن عباس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے،
صحیح البخاری
کتاب: اذان کا بیان
باب: باب: اس بارے میں کہ اذان کا جواب کس طرح دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 611
ترجمہ:
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اذان سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہہ رہا ہو۔
صحیح البخاری
کتاب: علم کا بیان
باب: اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 100
ترجمہ:
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے مالک نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ فربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے، کہا ہم سے جریر نے، انہوں نے ہشام سے مانند اس حدیث کے۔
صحیح البخاری
حدیث نمبر: 877
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص جمعہ کی نماز کے لیے آنا چا ہے تو اسے غسل کرلینا چاہیے۔
Rasoollallah Sallallhu-Alaihi-Wasallam ne farmaya jo subah ki Namaz ada kar le wo Allah subhanahu ke zimme (panah) mein hai
.
.
Sunan Ibn Majah, Vol 3, 827-Sahih
Sahih Bukhari Hadees # 29
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ ، قِيلَ : أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ، قَالَ : يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا یا رسول اللہ! کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
Sahih Hadees
View more
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ،*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ*
تکبر کیا ہے