Ask @abdullah4057:

Koi acha sa shair hojaye? 😁 Mine is... رہ گئ امید تو برباد ہو جائوں گا میں۔۔ جایٔے تو پھر مجھے سچ مُچ بھولاتے جایٔے۔۔ جون ایلیا~🙏🏼💔

Braishnah
وہ دن تو اب پرانے ہو گئے
ماضی کے یوں افسانے ہو گئے
وہ شاعر جو محفلیں سجاتے تھے
اُنہیں دیکھے اب زمانے ہو گئے
چلو آؤ بزمِ سُخن پھر سے سجاتے ہیں
چھوڑو تنہائیاں اب بہت بہانے ہو گئے
چلو محبت کی راہ پہ چلتے ہیں
بہت غلط نشانے ہو گئے
غالؔب تیری غزلیں پڑھ کر
اقبالؔ کے شاہین دیوانے ہو گئے
جو چُن لیا شاعری کا راستہ
تو دل و جان محبت کے خزانے ہو گئے
اب تو داد دو میرے اشعار پہ
کم سُخن یہاں سے روانے ہو گئے
رو کر ساقی مجھے کہنے لگا
تیرے جانے سے خالی میخانے ہو گئے

View more

Best line you've read so far?

کساء زیدی
قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا
پر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھا
نکلے اگر تو چاند دریچے میں رک بھی جائے
اس شہر بے چراغ میں کس کا نصیب تھا
آندھی نے ان رتوں کو بھی بے کار کر دیا
جن کا کبھی ہما سا پرندہ نصیب تھا
کچھ اپنے آپ سے ہی اسے کشمکش نہ تھی
مجھ میں بھی کوئی شخص اسی کا رقیب تھا
پوچھا کسی نے مول تو حیران رہ گیا
اپنی نگاہ میں کوئی کتنا غریب تھا
مقتل سے آنے والی ہوا کو بھی کب ملا
ایسا کوئی دریچہ کہ جو بے صلیب تھا

View more

Any message for your stalkers🌚

Abiha Zaidii
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
یوں ہی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو
یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے
کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے
وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے
نہ اداس ہو نہ ملال کر، کسی بات کا نہ خیال کر
کئی سال بعد ملے ہیں ہم ترے نام آج کی شام ہے
کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاؤں سا
ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے

View more

Any heart saying?💯

Syeda Sidra Naqvi
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
یوں ہی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو
یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے
کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے
وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے
نہ اداس ہو نہ ملال کر، کسی بات کا نہ خیال کر
کئی سال بعد ملے ہیں ہم ترے نام آج کی شام ہے
کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاؤں سا
ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے

View more

Say Anything🌸

نازیہ فاروق
ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے
بس اپنے واسطے ہی فکر مند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے
پروں کو کاٹ دیا ہے اڑان سے پہلے
یہ خوف ہجر ہے شوقِ وصال تھوڑی ہے
مزا تو تب ہے کہ ہار کے بھی ہنستے رہو
ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے

View more

Post a شعر !

کساء زیدی
سرِ راہ لاش کے دو ٹکڑے پڑے تھے
سر اِدھر پڑا تھا دھڑ اُدھر پڑا تھا
تازہ خون جو اّس لاش سے بہہ رہا تھا
زمیں کا وہ حصّہ اُس خون سے تر پڑا تھا
پوچھا کسی نے کون بد بخت ہے یہ
اور کونسا جرم کر پڑا تھا
قاتل پاس کھڑا تھا, بولا عشق ہو میں
یہ مجھ سے لڑ پڑا تھا

View more

Happy 23 March PAKISTAN Day♥️🇵🇰

بعد اسلام کے کیوں مرتے ہو کسی کے لئے
گر جان دینی ہے تو جان دو وطن کے لئے
اے مرد مسلماں گر جان دو گے وطن کے لئے
لوگ تمھیں آنکھوں پہ اٹھائیں گے تمھاری عزت کے لئے
دل پہ تحریر نقش ہے پاکستان کے لیے
اک جذبہ الفت کی تعبیر ہے پاکستان کے لیے
کون ہمت کرسکتا ہے تسخیر پاکستان کے لیے
کیونکہ اس وطن کو ہم نے لیا اسلام کے لیے
تن من دھن سب قربان کردیں گے ہم برھان
اس وطن کی خاطر اس مٹی کے لئے

View more

Something u wanna say??🌚🌚

کساء زیدی
کہا اُس نے __ کہ آخر کِس لیے بیکار لکھتے ہیں
یہ شاعر لوگ کیوں اِتنے دُکھی اشعار لکھتے ہیں
کہا ہم نے کہ اَز خُود کچھ نہیں لکھتے یہ بیچارے
اِنہیں مجبور جب کرتا ہے _ دل، ناچَار لکھتے ہیں
یہ سُن کر مُسکرائی، غور سے دیکھا ہمیں، بولی:
تو اچھا آپ بھی اُس قِسم کے اشعار لکھتے ہیں
وہ کیا غم ہے جسے دُہرا رہے ہیں آپ برسوں سے
وہ کیا دُکھ ہے، مناتے ہیں جسے ہر بار لکھتے ہیں
مگر افسوس ہم سمجھا نہیں پائے اُسے کچھ بھی
کہ کیوں ہم بھی اُسی انداز کے اشعار لکھتے ہیں
وہ کیسی آگ ہے لفظوں میں، جس کو ڈھالتے ہیں ہم
وہ کیا غم ہے _____ جو راتوں کو پسِ دیوار لکھتے ہیں
ہے ایسا کون ___ جو سارے جہاں سے ہے ہمیں پیارا
وہ کیسا دُشمنِ جاں ہے ، جسے غم خوار لکھتے ہیں...!!!

View more

Do you care what other people think of you?

Zara Haq
میں نے یہ کب کہا تھا کہ سارا ادھیڑ دے
جتنی بُنت خراب ہے، اتنا ادھیڑ دے
ان کا نصیب بس وہی صحرا کی خاک ہے
جن کو فراقِ یار کا لمحہ ادھیڑ دے
ممکن ہے اب کی بار میں آدھا دکھائی دوں
ممکن ہے تیرا ہجر یہ چہرہ ادھیڑ دے
ممکن ہے میری آنکھ پہ منظر نہ کھل سکیں
ممکن ہے کوئی خواب کا بخیہ ادھیڑ دے
ممکن ہے تیرے پاس نہ ملنے کا عذر ہو
ممکن ہے کوئی شہر کا رستہ ادھیڑ دے
انورؔ کہا تھا عشق نے چمڑی ادھیڑ دوں
میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ، اچھا ادھیڑ دے

View more

Quote a note.! 💌

Barbie, ❤️
بنتا نہیں ہے حُسن سِتمگر شباب میں
ہوتے ہیں اِبتدا ہی سے کانٹے گُلاب میں
جلوے ہُوئے نہ جذب رُخِ بے نقاب میں!
کرنیں سِمَٹ کے آ نہ سَکِیں آفتاب میں
بچپن میں یہ سوال، قیامت کب آئے گی؟
بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں
صیّاد! آج میرے نَشیمن کی خیر ہو !
بجلی قَفس پہ ٹُوٹتی دیکھی ہے خواب میں
آغازِ شوقِ دِید میں اِتنی خَطا ہُوئی
انجام پر نِگاہ نہ کی اِضطراب میں
اب، چُھپ رہے ہو سامنے آکر، خبر بھی ہے!
تصوِیر کھنچ گئی نِگہِ اِنتخاب میں
کشتی کسی غرِیب کی ڈُوبی ضرُور ہے
آنسو دِکھائی دیتا ہے چشمِ حباب میں
محشر میں ایک اشکِ ندامت نے دَھو دِیئے
جِتنے گناہ تھے مِری فردِ حساب میں
اُس وقت تک رہے گی قیامت رُکی ہُوئی
جب تک رہے گا آپ کا چہرہ نقاب میں
ایسے میں، وہ ہوں، باغ ہو، ساقی ہو !
لگ جائیں چار چاند شَبِ ماہتاب میں

View more

post something true🌸

Mr. HYJ
بظاہر لوگ کتنے مہرباں تھے
مگر دکھ بانٹنے والے کہاں تھے
لبوں پہ مسکرانے کی دھنک تھی
لہو لتھڑے سخن زیرِ زباں تھے
جو منزل۔ آشنا تھے وہ مسافر
پسِ خاکِ غبارِ کارواں تھے
میں ایسے شہر کا باسی ہوں
مکیں پتھر تھے شیشے کہ مکاں تھے
جلا جب آشیاں تو ہم نے جانا
کہ تنکے بھی ہوا کے رازداں تھے
کسی نے حال تک نہ پوچھا
ہم اہلِ دل بھی کتنے رایگاں تھے

View more

Post some poetry stuff??

Ayaz Ahmed Awan
بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں
پھول کیوں نہیں کھلتے؟
لوگ کیوں نہیں ملتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی
ساتھ ساتھ رہتی ہے؟
کیوں بچھڑنے والوں کی
یاد ساتھ رہتی ہے؟
اتنی تیز بارش سے
دل کے آئینے پر سے
عکس کیوں نہیں دھلتے؟
زخم کیوں نہیں سلتے؟
نیند کیوں نہی آتی؟
بارشوں کے موسم میں
آنکھ کیوں برستی ہے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
بارشوں کے موسم میں
لوگ کیوں نہیں ملتے؟

View more

A fact about yourself 🌹

Fαtimα
اب کسی سے مرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ مرا خون ہے شراب نہیں
میں شرابی ہوں میری آس نہ چھین
تو مری آس ہے سراب نہیں
نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقت شوخئ جواب نہیں
اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اور خود جیسا اب دو آب نہیں
غم ابد کا نہیں ہے آن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں
بودش اک رو ہے ایک رو یعنی
اس کی فطرت میں انقلاب نہیں

View more

Aur sunaye🌚

Abiha Zaidii
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح
وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح
غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح
کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح
ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح

View more

What makes life so difficult?🌚

Abiha Zaidii
آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا
وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی
کوئی احسان دھر گیا ہوگا
خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا
شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا
مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

View more

Next