Ask @ajk_rocks:

Kuch Kehdijye.?

shehzeen.
‎سر یہ ہر حال جھکا ، ہم نے قناعت کی تھی
‎اک تری بار ہی بس رب سے شکایت کی تھی
‎اس قدر سخت سزا بھی تو نہیں بنتی تھی
‎ہم نے بچپن سے نکلنے کی شرارت کی تھی
‎ہوش والوں کی نہ باتوں میں ہمی آئے کبھی
‎ورنہ ہر اک نے سنبھلنے کی ہدایت کی تھی
‎معتبر تھے کبھی دنیا کی نظر میں ہم بھی
‎پھر ہوا یوں کہ مری تم نے حمایت کی تھی
‎ہم نے مانا کہ چلو مرکزی مجرم ہم ہیں
‎کچھ دنوں تم نے بھی تو ہم سے محبت کی تھی
‎بے وفاؤں سے وفا خبط ہے لا حاصل سا
‎ہمیں معلوم تھا پھر بھی یہ حماقت کی تھی
‎نفع نقصان کی باتیں نہیں جچتی ہم کو
‎ہم نے کب یار ترے ساتھ تجارت کی تھی
‎مبتلا تازہ ہے تو، خوش ہے محبت سے تو سن
‎اس نے آغاز میں ہم پر بھی عنایت کی تھی
‎کیوں زبانوں پہ فقط نام ترا ہے ابرک
‎تم سے پہلے بھی تو کتنوں نے بغاوت کی تھی

View more

Next