Ask @arsalanbadar1:

🕉️

цsαmαgul
مجھے پہلے سمجھ نہیں آتی تھی کہ انسان کو بہت دکھ پہنچتا ہے تو وہ ہستا کیوں ہے..
لیکن آج جب خود پہ گزری تو جانا ہے کہ جب ضبط کا بندھن ٹوٹ جائے جب تکلیف درد اذیت حد سے بڑھ جائے تو واقع انسان اس حد کو پہنچ جاتا کہ آنسو نہیں آتے وہ اذیت اک شور جو اندر برپا ہے جو طوفان سینے میں قید ہوتا ہے تو انسان ہستا ہے اس کی اذیت اس کی ہنسی سے جھلکتی ہے...
اپنی بے بسی پہ اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ جب میرے پاس صرف اک رشتہ میرا صرف اک جو میری چار دیواری ہے میری چھت ہے میری طاقت ہے جب وہ واحد رشتہ روئے جب ان کی آنکھوں میں میری وجہ سے آنسو آئے جب وہ اپنی اس بے بسی پہ رو دیں کہ وہ مجھے اب کیسے تحفظ دیں..
جب آپ کا بے حد پیارا آپ کے سامنے روئے اور موت مانگے میری بے بسی کہ میرے پاس اک لفظ نہیں دلاسے کا حوصلے کا کہ میرے لئے میرا گھر یہ ہی ہیں اور جب وہ ٹوٹ جائیں تو کیسے سنبھالوں میں اس وقت صبر کا کونسا درجہ مانگوں میں دھوپ کی اس تپش کو برداشت کر لوں لڑ لوں سب سے لیکن آج میری ماں کے ٹوٹنے نے توڑ دیا مجھے.
میری جو طاقت ہیں جن کے بغیر میں کچھ نہیں ان کی تکلیف دیکھ کے بکھر گیا میں کہ اب صبر بھی مانگوں تو کونسا درجہ مانگوں..
انسان اپنی تکلیف برداشت کر لے لیکن جس سے سب سے زیادہ پیار کرتا اس کی نہیں اور خاص کر کہ اس کی وجہ ناچاہتے ہوئے بھی ہم ہوں
خدا اس درجہ بے بسی نہ دے کسی کو..کہ اب بھی اسی کو پکار رہا ہوں کہ اس بے بسی کا کیا کروں میں

View more

Post something worth reading 💕

fatimatuzzahra
زندگی میں انسان بہت غلطیاں کرتا ہے_انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنے عزیز ترین لوگ کھو دیتا ہے_ان غلطیوں کا ازالہ تک نہیں ہوتا_کچھ لوگ وقت مہربان کی بدولت واپس مل تو جاتے ہیں لیکن غلطیوں کی وجہ سے انسان کی حیثیت خاک ہوجاتی ہے_

View more

منزلیں دور بھی ہیں ۔۔۔ منزلیں نزدیک بھی ہیں اپنے ہی پاؤں میں‌ ۔۔۔ زنجیر پڑی ہو جیسے

hassan shahid
ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانا دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
زندگی گزری ، مگر درد نہ جانا دل کا
کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا
وہ محبت کی شروعات ، وہ بے تحاشہ خوشی
دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا
دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا
ایک تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے
اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ،ٹھکانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے ، دل بھی گیا ہاتھوں سے
“ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا “
خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا
بے جھجک آ کے ملو، ہنس کے ملاؤ آنکھیں
آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا
نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
حسرتیں خاک ہوئیں، مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچہء جاناں میں خزانا دل کا
لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا
پیر سیّد نصیر الدین نصؔیر گیلانی

View more

🍁

Khadija Cheema
عورت ایک منافق مخلوق ہے۔۔۔۔۔۔۔اور مرد ایک سچا انسان ہے،،،،،!!!
بہت سے لوگوں کو مجھ سے اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔پر میں نے عورت سے بڑھ کر کسی کو منافق نہیں پایا !
حد درجہ منافق ہوتی ہے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان سے کچھ اور بولتی ہے.
کبھی بھی اپنے گھر والوں کو آنکھوں کی سرخی کی اصل وجہ نہں بتائے گی۔عزت سفید پوشی کبھی گھر کے حالات کی وجہ سے اپنی من پسند چیزوں اور آرزوؤں سے دستبردار ہو جائے گی۔
ستم اس پر یہ کہ مسکرا کر خود کو اذیت دے گی۔کبھی بھی اپنی پیدا کردہ ماں کے سامنے نہیں روئے گی۔
ہاں یہ ضرور کہے گی سر میں درد تھا=بھائیوں کی راز دار بن جائے گی۔کبھی بھی انہیں اپنے دل کی بات نہیں بتائے گی مسکراتی رہے گی ایک دن چپ چاپ مر جائے گی۔تب بھی یہ نہیں بتائے گی ہارٹ اٹیک کی اصل وجی کیا ہے۔۔۔۔۔۔!!!
رہا مرد تو وہ سچا ہے۔
بیوی نہیں پسند تو دوسری۔۔۔۔۔۔
بول کربتاتا ہےمجھےنہیں پسند یہ عورت۔
جاب سے بچارہ تھکا ہارا آتا ہے جتا دیتا ہے میں تھکا ہوا ہوں تنگ نا کیا جائے۔
یہ الگ بات ہے عورت پورا دن گھر بچوں، کام، سسرال کی خدمت، آئے گئے کی عزت، سب کام کے باوجود مرد کو کبھی جتاتی نہیں۔۔۔۔
بات تو وہیں آ گئی ناصاحب عورت ہے ہی منافق...

View more

+1 answer Read more

تقدیر سے الجھ بیٹھی ہوں...!!

Minahil Munawar
امام شافعی کہتے تھے :
" آزمائش جب بہت تنگ ہوجاتی ہے تو پھر وہیں سے کھل جاتی ہے "
انسان کیا کر سکتا ہے تقدیر کو بدلنے کے لئے؟ لاکھوں روپے لٹائے میں نے، پھر کتے سے بھی بڑھ کر منتیں کی ایک نہیں بہت سے لوگوں کی، پاوں پکڑے۔۔ رویا، واسطے ڈالے، ایک برس میں نے گزار دیا سی کوشش میں کی تقریر بدل پاوں، ہر برا سے برا کام کیا کوئی ایسی کوشش نہیں جو میں نہ کی ہو، دین سے باہر تک چلا گیا تقدیر کو بدلنے کی جنگ میں، اس سے زیادہ کیا کر سکتا تھا میں؟ یا اس سے زیادہ انسان کیا کر سکتا ہے؟
اس سب کے بعد میں پتا ہے کیا پایا؟ مزید رسوائی، بے سکونی، آوارہ پن! سب کچھ داو پہ لگایا میں تقدیر سے الجھ کر۔
ابھی کچھ روز پہلے ہی میں پھر عالم کے پاس گیا، انہوں نے مجھے کہا کہ بیٹا یہیں تو غلطی کر گئے، تقدیر کو انسان اس زمینی چیزوں، دولت اور لوگوں سے مدد مانگ کر کبھی نہیں بدل سکتا۔
تقدیر لکھنے والے سے ہی رجوع کرنا پڑتا ہے اور اس سے ہی بھیک مامگنی پڑتی ہے اور بے شک وہ ہمارا مالک ہے اور ہمارے مانگنے کا منتظر رہتا ہے۔
آج شب برات ہے! آج کے روز تقدیر لکھی جانی ہے، رات باقی ہے، مانگو اللہ سے اور اپنی تقدیر بدلنے کی دعا کرو۔
اللہ آپ کو سکون دے اور مجھے بھی۔ آمین

View more

What is pain? 🍁

Fαtimα
درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں
چار سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں
اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو
کوئی لمحہ ہو تیری یاد میں کھو جاتے ہیں
اب تو خود کو بھی میسر نہیں آ پاتے ہیں
رات ہو دن ہو تیرے پیار میں ہم بہتے ہیں
درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں
اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو
وہ جو غم آئے اسے دل پے سہا کرتے تھے
ایک ساتھ ہم مل کر رہا کرتے تھے
اب اکیلے ہی زمانے کے ستم سہتے ہیں
درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں
اب جو بچھڑے تو احساس ہوا ہے ہم کو
ہم نے خود اپنی راہوں میں بچھائے کانٹے
گھیر میں پھولوں کے جگہ لا کر سجائے کانٹے
زخم اس دل میں بسائے ہوئے خود رہتے ہیں
یوں تو دنیا کی ہر چیز حسین ہوتی ہے
پیار سے مگر کچھ بھی نہیں ہوتی ہے
راستہ روک کے ہر ایک سے یہی کہتے ہیں
اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو
درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں
چر سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں
اب جو بچھڑے تو احساس ہوا ہے ہم کو ...!!!

View more

Pap

saqiba
کتنی واضح لکیریں ہیں
ان لکیروں میں میں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ گزارا ہے اور تب ایک نشہ سوار تھا مجھ پہ کہ بس یہ لکیریں صرف میرے سفر کرنے کے لئے ہیں۔
لیکن پھر ایک دم سے مٹھی بند کر مجھے ان ہی لکیروں میں مسل دیا گیا۔
ابھی اس ہاتھ میں کوئی بھی ایسی لکیر نہیں جس کا راستہ میری طرف آتا ہو۔
بس!

View more

Next