Ask @bukhariumar901:

People you may like

Azfar_Shah’s Profile Photo Azfar Shah
also likes
Ahmeiahmed’s Profile Photo Ahmed Mukhtar
also likes
HaroonHayat’s Profile Photo Haroon Hayat
also likes
RiXwanElaHi’s Profile Photo Kyro
also likes
flank88’s Profile Photo Abdurrehman Khan
also likes
nYr_aBs’s Profile Photo N a Y a R
also likes
RaddadRadaideh’s Profile Photo Raddad Radaideh
also likes
shoaibsahi’s Profile Photo Shoaib Sahi
also likes
salmanrana787’s Profile Photo salmanrana787
also likes
moazamali007’s Profile Photo G A I T O N D E
also likes
umerromeo16’s Profile Photo Umer Ashraf
also likes
FADDISTIC’s Profile Photo FAHAD KHAN
also likes
HADEEDABDULLAH1’s Profile Photo HADEED
also likes
MohammadASabbah’s Profile Photo Mohammadsabbah
also likes
AbdElsattar1010’s Profile Photo AbdElsatar
also likes
yzi12’s Profile Photo عمرخیام
also likes
Want to make more friends? Try this: Tell us what you like and find people with the same interests. Try this: + add more interests + add your interests

_

NadaYehiea’s Profile PhotoNada Yahia
رسول اور نبی:
ہر رسول نبی ہو سکتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہو سکتا۔
* رسول اور نبی میں فرق
- رسول وہ ہوتا ہے جس کو اللہ ﷻ کی طرف سے شریعت ملی ہو اور اللہ ﷻ کا چُنا ہوا اِنسان ہو۔ مشال کے طور پر حضرت موسیٰ پر تورات اُتری۔
- نبی وہ ہوتا ہے جس کو اللہ ﷻ کی طرف سے کوئی خاص شریعت نہیں مِلی ہوتی مگر وہ اپنے سے پہلے رسول کی شریعت پر عمل کرتا ہے۔ مشال کے طور پر حضرت شمائیل علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل کیا۔
* چار مشہور آسمانی کتابیں۔
1. پہلی: حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات اُتری۔
2. دوسری: حضرت داؤد علیہ السلام پر زبُور اُتری۔
3. تیسری: حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بائبل/انجیل اُتری
4. چوتھی: حضرت مُحمد پاک ﷺ پر قرآن حکیم نازل ہوا۔
* دُنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا اکرام آئے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اُن میں 313 رسول تھے اور 104 پر آسمانی کتابیں نازل ہوئی۔ اور 25 پیغمبروں کا ذکر قرآن میں ہے
* چار مشہور پیغمبروں کے علاوہ سب پر صحیفہ نازل ہوتے تھے جو خاص وقت اور خاص موقعہ کے لیے ہی ہوتے تھے، یٰعنی بہت ٹھورے وقت کے لیے۔

View more

-

NadaYehiea’s Profile PhotoNada Yahia
- حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سباء کا واقعہ
کسی زمانے کی بات ہے جب ملکہ سباء (Queen of Sheba) حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملاقات میں سفر میں تھیں۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام اِس کو اپنی عزیم طاقت دکھانا چاہتے تھے، اور اِسے اپنے دین سے متاثر کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ منکر لوگوں میں سے تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار والوں سے کہا کوئی ایسا ہو جو ملکہ سباء جس کا نام بلقیس ہے کے یہاں آنے سے پہلے اُس کا تخت میرے پاس لے آئے، ملکہ بلقیس جو کے 1500 میل کا سفر طے کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آنا تھا، تو اتنے فاصلے پر اس کا تخت اُس سے پہلے لے کے آنا ناممکن تھا۔ چنانچہ سلیمان کے حکم پر جِنوں میں سے ایک دیو نے کہا میں تجھے لائے دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اُٹھے۔ پھر ایک شخص اُٹھا اور بولا میں تجھے تخت لائے دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تیری طرف تیری آنکھ پھر آئے ( پلک جھپکنے میں) چنانچہ وہ پلک جھپکنے سے پہلے لے آیا۔ اُس کا نام آصف بن برخیا تھا اور وہ کوئی جادوگر نہیں تھا نہ جِن وہ آسمانی کتابوں کا مطالعہ کئے ہوئے تھا اللہ عزوجل کی قدرت پر یقین رکھتا تھا۔ چنانچہ جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو سلیمان نے کہا کہ اس تخت کی شکل بدل دو تو ملکہ سے پوچھا کیا یہ تیرا ہی تخت ہے وہ دیکھ کے دنگ رہ گئی اور پہچان لیا کہ یہ میرا ہی تخت ہے اور پھر وہ اللہ کو ایک ماننے والوں میں سے ہو گئی۔
آپ اِس واقعہ کا مطالعہ قرآن کی سورۃ النمل 27 کی آیات 38، 39، 40، 41، 42 اور 43 کا ترجمہ ملاحظ کر سکتے ہیں۔

View more

Next