Ask @samraansar123:

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا دنیائے حادث

Ayee Hayee

View more

Post your favorite lyrics🌸

محمد حسام بن تیمور
‏مارچ اپریل کے دن بھی
‏کتنے عجیب ہوتے ہیں
‏جب جب پھول کھلتے ہیں
‏دل مرجھانے لگتے ہیں
‏کچھ بچھڑے لوگ یاد آنے لگتے ہیں
‏یوں تو ہری بہار میں
‏ہر طرف خوشبو ہوتی ہے
‏جب بھی یہ مہکی فضائیں آتی ہیں
‏گزرا وقت یاد دلاتی ہیں
‏کون کہتا ہے؟
‏کہ بہاریں خوشیاں لاتی ہیں
‏یہ تو اداسیوں سے دامن بھر جاتی ہیں🍃🌼

View more

Next