Ask @shahmeerr7:

ٹھری ٹھری سی طبیعت مین روانی آئی آج پھر یاد مہبت کی کھانی آئی آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑ تے دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

nauman bashir
سوچتا تھا کیسی ہوگی فارہہ
جس کے کارن "ایلیاء" شاعر بنا
عشق بھی کردیتا ہے حال کیا
"ساغر" کو دیکھ کے پتہ چلا
"میر" کیوں کہتے پھرتے تھے غزل
کیا تھا چکر "خیام" کی رباعی کا
قصہ بڑا ہے مختصر پل دو پل کا
"ساحر" بھی تو عشق میں ساحر بنا
حجاب ہوتی تھی محور "داغ" کا
دل ٹوٹ جانے پر "جگر" کو ناز تھا
اپنی خواہشوں کا دم نکال کر
"غالب" کرتے رہتے تھے کمال کیا
سوچ میں بیٹھا تھاابھی گم سا
عشق کا ایک اور پہلو یاد آگیا
وہ بھی تو انسانیت سے عشق تھا
"اقبال" کے قلم سے جو ہم نےسنا
پھر ملی مجھے بھی اک صاحبہ
توڑ کے رکھ دی میری جس نے انا
زیادہ وقت نا پھر سمجھنے میں لگا
سمجھ گیا کیسی تھی وہ فارہہ
عشق کا مفہوم نا ہو جسے پتہ
شاعر ہے پھر وہ شاید خاک کا

View more

Next