مجھے رفتہ رفتہ نصیب کر غم ہجر کی جو ہیں لزتیں میرے زخم زخم کا لطف لے میرے ٹوٹ جانے کی ضد نہ کر ...

عادتیں ڈال کر۔۔۔۔۔۔۔۔توجہ کی
لوگ یک دم جو بدلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔سِتم کرتے ہیں

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے.. سُننے والے رات کٹنے کی دُعا دینے لگے!

حِسابِ عشق دیکھا،عجب دیکھا،غضب دیکھا
سب نفی،تجھے واحد،خود کو صِفر دیکھا🖤

دھڑکن کی ڈگڈگی پر کب سے ہے محو رقص دل تھک کے گر بھی جا کہ تماشا تو ختم ہو....!

سامنے یار ہو اور ہوش تیرے گُم نہیں
یا تو وہ یار نہیں یا عاشق تم نہیں❤️