Ask @shozaab:

Write something..

Junaid
*افواج پاکستان کی تعریف غیر کرتے ہیں 1965 کی جنگ اور گورے کی آنکھوں دیکھی روداد*
بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر 1965 کے شمارے میں جنگ ستمبر کے محاذوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لکھا تھا ” میں پاک بھارت جنگ کو شائد بھول جاؤنگا لیکن پاک فوج کا جو افسر مجھے محاذ پر لے گیا تھا، اس کی مسکراہٹ کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ یہ مسکراہٹ مجھے بتا رہ تھی کہ پاکستانی نوجوان کس قدر نڈر اور دلیر ہیں۔ جوان سے جرنیل تک میں نے اس طرح آگ سے کھیلتا دیکھا ہے جس طرح بچے گولیوں سے کھیلتے ہیں ”
لوئس کرار نے اپنی رپورٹ اس فقرے کے ساتھ شروع کی تھی ” جو قوم موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو اس کو کون شکست دے سکتا ہے “
برطانیہ کے مشہور اخبار ڈیلی میل کا جنگی وقائع نگار ایلفرڈ کک بھی پاکستان میں ہی موجود تھا۔ اس نے لاہور کا آخری اور انتہائی خونریز معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس نے آخری معرکے کے ہندؤوں کے آخری جتن اور فائر بندی کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا۔
” لاہور کے محاذ پر بھارتیوں نے بھینی ( باٹا پور سے پانچ میل شمال کی جانب ) بی آر بی کے پل کے مقام پر تمام رات گولہ باری جاری رکھی۔ پورے تین بجے یعنی صبح فائر بندی کے وقت انہوں نے بھینی پل پار کرنے کے لیے انفنٹری سے دو شدید حملے کیے۔ ان حملوں کی پشت پناہی کے لیے بھارتی توپخانے نے جو گولہ باری کی وہ اس سیکٹر کی شدید ترین گولہ باری تھی۔ معاہدے کے مطابق جنگ بندی کے طے شدہ وقت کے پندرہ منٹ بعد تک گھمسان کی جنگ جاری رہی۔ اور پاکستانیوں نے بھارتیوں کے یہ دنوں حملے پہلے حملوں کی طرح پسپا کر دئیے۔ پھر کہیں جاکر فائر بندی ہوئی”
” جنگ بندی کے بعد دور کہیں بھارتی سرزمین سے کالے سیاہ بادل آسمان کی طرف اٹھنے لگے۔ میں نے پاک فوج کے افسر کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ ہلکی سی ہنسی ہنس کر بولا کہ ” ہندوستانی اپنی لاشوں کو جلا رہے ہیں”
تھوڑی دیر بعد انڈین آرمی کے بہت سے ٹرک میدان میں آہستہ آہستہ چلتے نظر آنے لگے۔ وہ لاشیں اٹھانے آئے تھے۔ جبکہ پاک فوج کے پیادہ سٹریچر اپنے جوانوں کی لاشیں ڈھونڈ رہے تھے۔ اس وسیع و عریض میدان میں پاک فوج کے شہداء کی کل تعداد چھپن (56) تھی۔ یہ گزشتہ رات کے شہداء تھے۔
ان کے مقابلے میں بھارتی صرف ڈوگرئی کے علاقے سے لاشوں کے چودہ ٹرک بھر کر لے گئے۔ ..

View more

Hi .. I need a message that makes me smile very much?

گھر قریب آ چکا تھا،
میں نے بائیک مین روڈ سے اپنی گلی کی طرف موڑ لی۔۔
لگتا تھا کہ لائٹ گئی ہوئی ہے،
کیونکہ گلی میں اندھیرا تھا اور گھروں سے جنریٹرز کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔
اچانک ایک نقاب پوش بائیک کے ایک دم سامنے آ گیا، میں نے گھبرا کر بریک لگائی اور اس سے قبل کہ میں کچھ سمجھ پاتا،
اس نے بائیک کے قریب آ کر پستول میری کنپٹی سے لگا دیا اور آواز کو دباتے ہوئے بولا:
موبائل نکالو۔۔۔۔
میں نے فوری طور پر نتائج کی پرواه کیے بغیر اس کو زور کا دھکا دیا،
اور وه جو بائیک سے چپکا کھڑا تھا،
اس فوری ری ایکشن کے لیے شائد تیار نہ تھا،
لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا۔۔۔۔
میں نے اُسکو جا لیا،
اور تین چار تھپڑ کس کس کر لگائے۔۔۔۔
اسکے ہاتھ سے پستول گر چکا تھا،
میں نے اسکو قابو کیا،
اور ایک ہاتھ سے اسکا نقاب اتار دیا۔۔۔۔
اسکی شکل دیکھ کر میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی، وه کوئی اور نہیں،
میرا اپنا نوکر تھا، جو کہ آج چھٹی پر تھا۔۔۔۔
میرے غصے کی انتہا نہ رہی، میں چیخ پڑا:
احسان فراموش، مجھے شک تیری آواز سے ہی ہو گیا تھا۔۔
تو نے جس گھر کا نمک کھایا،
وہیں نمک حرامی کی۔۔۔۔۔۔؟
ہم تجھ سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے،
تنخواه کے علاوه بھی وقت بے وقت تیرے کام آنے کی کوشش کی،
اور تُو نے اس کا یہ صلہ دیا کہ پستول لیکر آ گیا۔۔۔۔۔۔؟
اسکی شکل رونے والی ہوگئی:
نہیں صاحب، وه پستول نقلی ہے،
آپ خود چیک کر لیجیے۔۔۔۔
میں نے غصّے سے پوچھا:
تو پھر اس حرکت کی کیا ضرورت تھی،
اگر پیسوں کی ضرورت تھی،
تو مجھ سے یا بیگم صاحبہ سے کہنا چاہیئے تھا، اب چلو سیدھے تھانے۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر بے اختیار بول پڑا:
نہیں نہیں صاحب،
تھانے مت لے جائیے،
یہ حرکت میں نے بیگم صاحبہ کے کہنے پر ہی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
میرے سر پر گویا حیرت کا آسمان گر پڑا تھا۔۔۔۔
وه رونی صورت بنا کر بولا:
جی ہاں صاحب،
بیگم صاحبہ نے بولا تھا،
گھر آ کر وہ اِس منحوس موبائل میں ہی ہر وقت گھسے رہتے ہیں،
تجھے ہر قیمت پر آج یہ موبائل چھیننا ہے،
ورنہ تیری نوکری سے چھٹی۔۔۔۔
😂😬😂😬😂
A silent msg for every one....

View more

Next