Ask @usamamir3:

اب کہ سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے دشت طلب میں جا بجا سنگ گراں خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و در میں تھا نگلے ہوئے سوال تھے، اگلے ہوئے جواب تھے اب کے برس بہا کی رت بھی تھی انتظار کی لہجوں میں سیل درد تھا، آنکھوں میں اضطراب تھے خوابوں کے چاند ڈھل گئے، تاروں کے دم نکل گئے پھولوں ک

-ذکر اک بیوفا اور ستمگر کا تھا۔..
آپکا ایسی باتوں سے کیا واسطہ ...
آپ تو بیوفا اور ستمگر نہیں....
آپ نے کس لیے منہ اُدھر کر لیا....!🔥⁦❤️⁩

View more

Next