Ask @Ayyeesshaa:

🌷

Mohammad Rukhshan Rafi
میں جتنا جوڑتا خود کو وہ اتنا توڑ آتے ہیں
میں جن راہوں سے آتا ہوں
وہیں پہ چھوڑ آتے ہیں
سنبھلنے کی میرے یارم، مجھے مہلت تو دو تھوڑی
میں جتنا زخم بھرتا ہوں
وہ درد نچوڑ آتے ہیں
علامت ہجر ہے یہ، اداسی ہے جو چہرے پر
میں جتنا وصل کرتا ہوں
وہ منزل موڑ آتے ہیں
شب بھر جاگتا ہے کیوں، کیا امکان اسیری ہے؟
میں جتنا قید کرتا ہوں
وہ زنداں توڑ آتے ہیں
وہ ملتے ہیں وہاں مجھ کو،جہاں مجھ کو نہیں کچھ بھی
میں اک چاند کو تکتا ہوں
ستارے کروڑ آتے ہیں
میں ٹوٹا کانچ ہو کر بھی مکمل عکس دکھاتا ہوں
میں جن کا درد چنتا ہوں
وہ کفارے چھوڑ آتے ہیں
میری خامشی کو مرشد خاک صحرا سمجھتے ہیں
میں جتنا نرم دل ہوں نا
اتنے لہجے کٹہور آتے ہیں
Copied

View more

Next