Ask @tarekdaud:

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو۔ ❤

@Zammi
کوئی نہیں بہکتا کوئی بھی۔۔۔ بس ذرا سے فطرت سے قریب یو جاتا ہے۔ اور فطرت کی اساس بڑی وائلڈ ہے۔ پری پروگرامڈ فطرت ہے ناں جو اپنے فیکٹری ڈیفالٹس پہ، وہ بہت ہی وائلڈ ہے۔ یہ تو ہمیں ہاں نہیں، حرام حلال، غلط صحیح کی بائینری چوائس دے دی گئی ہے ایک کانشنس کے ساتھ، جو کہ خود بھی فطرت کے مطابق ہی پری پروگارمڈ ہے لیکن ریڈ اونلی نہیں ہے۔ سو ہم اسے چینج کرتے رہتے ہیں۔ نئے سٹینڈرڈز بنا کے فیڈنگ کرتے رہتے ہیں۔
مثال کے طور پہ بچپن میں جب ہمیں سرکار عبدالقادر جیلانی رحمۃ علیہ کی کہانی سنائی گئی پہلی دفعہ تو سچ اور جھوٹ کے فرق کے ساتھ ساتھ ایک سپرچوئل اٹیچمنٹ ہو گئی سچ اور جھوٹ کی اصلیت سے سرکار رحمۃ علیہ کی بدولت۔ تو ایک سٹینڈرڈ بن گیا ہمارے بچگانے دماغ میں کہ سچ ہی بولنا ہے۔ پھر کسی دن ابا کے دوست نے دستک دی دروازے پہ اور ابا نے کہا کہ بولو ابا سوئے ہوئے ہیں تو یہی جا کے بول دیا کہ انکل ابا کہہ رہے ہیں میں سویا ہوا ہوں۔ سچ کا سچ۔ ڈانٹ پڑ گئی ابا سے۔ تو سمجھایا گیا کہ ایسے نہیں بولتے۔ صرف اتنا بولتے ہیں کہ ابا سو رہے ہیں۔ یعنی جھوٹ کی پہلی ٹریننگ کون کر رہا ہے؟ وہ جو پرووائیڈر ہے ہمارا، ہمارے کنبے کا۔ سو سرکار کا لیول ابا کے لیول سے نیچے چلا گیا کیونکہ ضرورت تو ابا پوری کرتے ہیں ناں، سرکار کا تو صرف کتاب میں لکھا ہے۔ سو ایسے سٹینڈرڈز بدلتے جاتے ہیں تمام عمر۔ وہ سرکار کا درس کہیں دور رہ جاتا ہے اور پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مصلحتاً تو بولا جا سکتا ہے جھوٹ۔ جھوٹ فطرت سے دور ہے۔ چیک کر لو بے شک۔سچ فطرت کی اساس ہے۔ تو بس نشے میں بہک کے فطرت سے قربت ہو جاتی ہے بندے کی اور وہ سب زبان پہ آنے لگتا ہے جو مصلحتاً نہیں آنا چاہئے۔۔۔ اپنے اپنے فنڈے ہیں پینچو بس ایسے ہی ہے۔۔۔

View more

+1 answer Read more

Bitter Truth?👀 🦇

ᏴΔᎢᎷΔΠ
تنہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
میں وہی قطرۂ بے بحر وہی دشت نورد
اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے صحرا کا طلسم
اپنے سینے میں چھپائے ہوئے سیلاب کا درد
ٹوٹ کر رشتۂ تسبیح سے آ نکلا ہوں
دل کی دھڑکن میں برستے ہوئے لمحوں کا خروش
میری پلکوں پہ بگولوں کی اڑائی ہوئی گرد
لاکھ لہروں سے اٹھا ہے مری فطرت کا خمیر
لاکھ قلزم مرے سینے میں رواں رہتے ہیں
دن کو کرنیں مرے افکار کا منہ دھوتی ہیں
شب کو تارے مری جانب نگراں رہتے ہیں
میرے ماتھے پہ جھلکتا ہے ندامت بن کر
ابنِ مریم کا وہ جلوہ جو کلیسا میں نہیں
راندۂ موج بھی مَیں، مجرمِ ذات بھی مَیں
میرا قصہ کسی افسانۂ دریا میں نہیں
میری تاریخ کسی صفحۂ صحرا میں نہیں
مصطفیٰ زیدی جی مرحوم۔۔۔

View more

¶ آخری دفعہ آپ کے طوطے کب اُڑے تھے ؟ 😰

اٹھائیسویں روزے کی افطاری کے بعد، جب میں اور zac ایک bomb ass joint پھڑکانے کے بعد bike پے emporium mall کے لئے نکلے، shazam کی booking تھی ہماری اور راستے میں zac ہو گیا trip... گانڈ کھُل کے گلے میں آ گئی ہوئی تھی میری۔ میری تو کیا میرے طوطوں کی بھی بنڈ ہی پاٹ گئی تھی اس وقت۔ وہ تو شکر ہے کہ ارد گرد کچھ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ میں خود high af اور میں بول کیا رہا ہوں لوگوں سے بھلا: بھائی کا blood pressure کم ہو گیا ہے شاید افطاری کے بعد۔ اور ہم کھڑے کہاں ہیں بھلا: ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے گیٹ پہ۔ اور لوگ بیچارے اتنے اچھے کہ ایک تو بھاگم بھاگ wheel chair تک لے آیا کہ چلیں جی بھائی کو emergency لے چلیں فٹا فٹ۔ اور بھائی کنجر اپنے trip کو ایسا کتوں والا enjoy کر رہا ہے کہ ساتھ کھڑی ایک گنے کے رس والی ریڑھی پہ لیٹا ہوا ہے (جو کہ اس وقت بند پڑی تھی) اور فون پہ ایک کلائنٹ سے بات کر رہا ہے اور بیچ میں اسے hold کروا کے مجھے بول رہا ہے کہ ڈوووڈ تیس منٹ رہ گئے ہیں۔ اور لوگ کھڑے حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ بھائی اپنے ترلوک سدھارنے کا ٹائم تو نہیں بتا رہا کیا۔ shazam کا show تو miss ہو ہی گیا لیکن پھر ہم نے detective picachu دیکھی اور کتوں کی طری nachos and poocorns پھڑکائے۔

View more

Will humanity continue to advance technologically or will we fall back to how we lived for thousands of years or fall back further to how we lived for a hundred thousand years ago? هل تعتقد ستستمر الانسانية في التقدم التكنولوجي ام ستنحدر الي ما قبل الاف السنين من الان؟

Bæsmə Mæhmu:d
It feels like Technology will consume all the resources and then when there is nothing left, then it'll come the restoration period, when mass extinction will happen. The species we are seeing and living with will be lesser in their varieties, types, classes and numbers and then it will be a period of just survivalism... then greed will also be reverted back to its instinctive stage. That will be the worst of the times cuz rising up no painful then falling down...

View more

Poetry ?✍🏻 🦇

ᏴΔᎢᎷΔΠ
پاگل کسے کہتے ہیں ؟
جو ہوش گنوا بیٹھے؟
جو روڈ پہ جا بیٹھے؟
جو مانگ کے کھا بیٹھے؟
جو بھوک چھپا بیٹھے؟
کہتے ہیں اسے پاگل؟
بے شرم پھرے جو وہ؟
ٹھوکر سے گرے جو وہ؟
شکوہ نہ کرے جو وہ؟
بے موت مرے جو وہ؟
ہے کون بھلا پاگل؟
ننگا ہو بدن جس کا
گندا ہو رہن جس کا
آزاد ہو من جس کا
خالی ہو ذہن جس کا
کیا اس کو کہیں پاگل؟
گھر بھول گیا ہو جو
در بھول گیا ہو جو
زر بھول گیا ہو جو
شر بھول گیا ہو جو
وہ شخص ہے کیا پاگل؟
عزت سے ہو ناواقف
ذلت سے ہو ناواقف
دولت سے ہو ناواقف
شہرت سے ہو ناواقف
کیا اس کو کہیں پاگل؟
تم بات مری مانو
جو سچ ہے اسے جانو
اس گول سی دنیا میں
صرف ایک نہیں پاگل
کچھ اور بھی ہیں پاگل
جو ماں کو ستاتا ہے
دل اس کا دکھا تا ہے
جو باپ کے اوپر بھی
جھٹ ہاتھ اٹھا تا ہے
وہ شخص بھی ہے پاگل
جو رب کو بھلا بیٹھا
جو کرکے خطا بیٹھا
دولت کے نشے میں جو
جنت کو گنوا بیٹھا
وہ شخص بھی پاگل ہے
جو علم نہ سیکھے وہ
جو دین نہ جانے وہ
جو خود کو بڑا سمجھے
جو حق کو نہ مانے وہ
ہے وہ بھی بڑا پاگل
دنیا میں جو کھویا ہے
غفلت میں جو سویا ہے
جو موت سے ہے غافل
جو عیش کا جَویا ہے
اس کو بھی کہو پاگل
وٹس ایپ کے تحفے۔۔۔
شاعر نامعلوم۔۔۔

View more

Next